چوہدری عاشق حسین نمبردار اپنے عہد سے آگے کی شخصیت
ہر زمانے میں کچھ ایسے افراد ہوتے ہیں جو کہ اپنے زمانے سے بہت آگے کی سوچ رکھتے ہیں اور یہ سوچ ان کے کاموں میں واضح نظر آتی ہے۔ مرحوم چوہدری عاشق حسین نمبردار بھی ایسی ہی شخصیت تھی۔ یہاں پر اپنی بات کی تائید میں ان کے دو واقعات نقل کرنا چاہتا ہوں۔
پہلا واقعہ یہ کہ جب نوے کی دہائی میں امام بارگاہ حیدریہ امرہ کلاں کی تعمیر ہونے جارہی تھی تو سب نے یہی کہا کہ ہمیں اپنے وسائل اور آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک چھوٹا سا امام بارگاہ تعمیر کرنا چاہئیے لیکن چوہدری عاشق حسین مرحوم نے اس کے برعکس اپنی ذات پر قرض لیکر ایک بہت بڑا اور بغیر ستون(نوے کی دہائی میں اتنے بڑے ہال میں کوئی ستون نہ ہونا ایک منفرد بات تھی) کے ایسا شاندار امام بارگاہ تعمیر کروایا جو کہ آج تقریباً پچیس سال گزرنے کے بعد بھی ایک منفرد امام بارگاہ ہے۔ اگر اس وقت ایک چھوٹا سا امام بارگاہ تعمیر کیا جاتا تو جس تناسب سے ہماری تعداد میں اضافہ ہوا ہے آج سے بہت عرصہ قبل ہی نئے امام بارگاہ کی ضرورت پیش آجانی تھی۔
دوسرا واقعہ اس وقت کا ہے جب تقریباً 2010 میں وہ گورنمنٹ ہائی سکول امرہ کلاں کو ہائر سیکنڈری سکول کا درجہ دلانے کیلئے ضلعی تعلیمی افسر کے دفتر کے چکر لگاتے ہوئے خوار ہو رہے تھے۔ قارئین کی اکثریت جانتی ہے کہ چوہدری صاحب مرحوم اولاد کی نعمت سے محروم تھے اور یہ تب کا واقعہ ہے جب تقریباً ان کے خاندان کے ہم سبھی نوجوان کالج کی عمر سے گزر چکے تھے لہٰزہ ان کی یہ ساری خواری اپنی ذات یا اپنے کسی رشتہ دار کیلئے نہیں تھی اور تعلیم کے شعبے میں خدمات کا ووٹوں پر بھی کچھ خاص اثر نہیں پڑتا بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے اس لئے ان کی یہ خدمت خالصتاً آنے والی نسل کیلئے تھی۔
خیر جب کافی دن میں نے ان کو اس کام کے پیچھے جوتیاں گھساتے دیکھا اور دیکھا کہ وہ سارا سارا دن گزار کر ناکام لوٹ رہے ہیں تو مجھ سے رہا نہ گیا اور ان سے گزارش کی کہ آپ اتنی محنت کیوں کر رہے ہیں جبکہ ابھی ہمیں ہائر سیکنڈری سکول کی اتنی ضرورت بھی نہیں کیونکہ ڈنگہ شہر اتنا دور نہیں ہے اور نوجوان وہاں جاسکتے ہیں تعلیم کیلئے وغیرہ وغیرہ۔ تو وہ کہنے لگے کہ تم نے بھی میاں طارق صاحب (ڈنگہ والے جن کی وساطت سے وہ اس وقت ضلعی آفیسر سے ملنے جاتے تھے) والی بات کی ہے لیکن ایک وقت آئے گا جب تمہیں یاد آئے گا یہ یہ کام کیسا تھا۔ تب انہوں نے مجھے امام بارگاہ والا واقعہ بھی بتایا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ اس وقت اس مقصد میں کامیاب ہوئے تھے یا بعد میں کسی دوسرے فرد نے یہ ہائر سیکنڈری سکول منظور کروایا لیکن یہ واقعہ ان کی سوچ بتانے کیلئے نقل کیا گیا ہے کہ وہ کس طرح اپنے زمانے سے آگے کی سوچ رکھنے والی شخصیت تھے۔
یقیناً اس میں اللّٰہ تعالٰی کی مصلحت ہوگی کہ ان کو اولاد کی نعمت سے محروم رکھا لیکن وہ اپنے کاموں کیوجہ سے ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گے انشاءاللّٰہ اور انکے کام ہی ان کی حقیقی میراث ہیں۔
دعا ہے کہ اس ماہِ مبارک کا صدقہ اللّٰہ تعالٰی انکی مغفرت فرمائے اور ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے۔
التماس سورہ فاتحہ برائے عاشق حسین بن سردار خاں
یوم وفات۔ 7 مئی 2015

علم سے رہتا ہے ہمیشہ زندہ نام
ReplyDeleteاولاد سے کیا دو پشت چار پشت ؟
الہی آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ طہ و یس
ReplyDelete